آٹھ برس کی عمر میں پہلا شعر کہا اور اگلے برس صحافت کا آغاز کر دیا
صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، ادیب، صحافی اور سیاست داں، سید تابش الوری سے آدھی ملاقات
ادارتی نوٹ: سید تابش الوری کا شمار ان نابغہ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے بہ یک وقت صحافت، ادب اور سیاست جیسے کلیدی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے کر نہ صرف عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی، بلکہ قومی سطح پر بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ نیز، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہ چکے ہیں۔ پیدائش ہندوستان کی ریاست، الور میں ہوئی اور اسی مناسبت سے اپنے نام کے ساتھ ‘الوری’ کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ عملی زندگی کا آغاز شعبہ صحافت سے کیا اور پاکستان کے اعلیٰ ترین صحافتی اداروں میں مایاں خدمات انجام دیں اور ان دنوں بھی نام ور اخبارات میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے تین شعری مجموعے ‘ساغر آتشیں’، ‘رات ہوا چراغ’ اور ‘سرکار دوعالمﷺ’ نے خاص و عام میں پذیرائی حاصل کی، جب کہ غیر منقوط نعتیہ مجموعے ، سرکار دو عالم ﷺ جیسے تخلیقی کارنامے پر حکومت پنجاب کی جانب سے 2005ء میں سیرت ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے منعقدہ ملی ترانوں کے کُل پاکستان مقابلے میں سید تابش الوری کا لکھا ترانہ اول انعام کا حق دار ٹھہرا ، جس پر انہیں نقد انعام اور وزیر اعظم کی جانب سے سند امتیاز عطا کی گئی۔ ان کا یہ خصوصی انٹرویو ملتان سے تعلق رکھنے والی ممتاز صحافی شگفتہ بلوچ نے معاصر روزنامہ ‘جنگ’ کے سنڈے میگزین کے لیے کیا تھا جسے ان کے شکریہ کے ساتھ روشنی میگزین کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
٭٭٭٭٭
سید تابش الوری 1939ء میں دہلی سے 60 میل کی مسافت پر واقع ہندو ریاست الور میں پیدا ہوئے۔ گرچہ یہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی مگر مسلمان اپنے علم و ہنر کے باعث ممتاز مقام رکھتے تھے اور اکثر ریاست کا وزیر اعظم کوئی مسلمان ہی ہوتا۔ نیز، یہاں کی ادبی و ثقافتی فضا بھی عمدہ تھی۔ چوں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں مسابقت پائی جاتی تھی ، اس لیے مسلمان اپنے مذہبی تہواروں میں پرجوش اور انداز میں حصہ لیتے۔ اس ماحول نے تابش الوری کو بے حد متاثر کیا اور وہ محلے کے دیگر بچوں کے ساتھ مل کر اسٹیج سجا کر محافل منعقد کرتے اور نعتیں پڑھتے۔ انہوں نے محض آٹھ برس کی عمر میں پہلی نعت لکھی۔
تابش الوری کے 8 بہن بھائی تھے، جن میں سے بیش تر ولادت کے کچھ عرصہ بعد ہی فوت ہو گئے، جب کہ دو بھائی پناہ گزین کیمپ میں ہیضے کی نذر ہوئے اور پاکستان ہجرت کے دوران صرف وہی حیات رہے۔ والد کا ہجرت سے قبل ہی انتقال ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ان کی عمر پانچ برس تھی تو الور کے معروف عالم دین مفتی محمود نے انہیں ان کے والدین سے یہ کہہ کر مانگ لیا کہ اسے میرے حوالے کر دیں، میں اسے عالم دین بناؤں گا۔ مفتی محمود کی زیر سرپرستی پہلے انہوں نے ناظرہ قرآن پڑھا۔ پھر مفتی صاحب نے انہیں عربی کتب پڑھائیں اور پھر گلستان و بوستان ازبر کروائیں۔ ان کا شمار مفتی محمود کے نمایاں شاگردوں میں ہوتا تھا۔ تابش الوری کہتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان نہ آتے تو آج عالم دین ہوتے، تاہم مدرسے میں صرف تین چار سال ہی تعلیم حاصل کر سکے کہ تقسیم ہندوستان کے بعد انہیں پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔
ہجرت کے دوران پیش آنے والے مصائب کا تذکرہ کرتے ہوئے تابش الوری نے کہا کہ ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے تو الور کے مسلمانوں پر بھی حملوں کا آغاز ہو گیا۔ یہاں مسلمان اقلیت کے باوجود خاصے مستحکم تھے اور چوں کہ بیش تر سابق فوجی تھے، اس لیے انہوں نے بہادری سے ہندوؤں کا مقابلہ کیا۔ میرے والد کا الور میں لکڑی کا کاروبار تھا اور ہندو ہاتھ جوڑ کر انہیں سلام کرتے تھے۔ فسادات شروع ہوئے تو ہمارے بزرگوں نے دہلی میں عارضی قیام کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں نے اپنا قیمتی سامان کوڑیوں کے مول بیچا۔ دہلی میں واقع ہمایوں کے مقبرے کو پناہ گزین کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں ہمارے خاندان سمیت ہزاروں مسلمان مقیم تھے۔ والدہ نے مجھے ایک ساتھ تین جوڑے پہنا دیے، تاکہ بہ وقت ضرورت کام آ سکیں۔ طہارت کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے کیمپ میں ہیضے کی وباء پھوٹ پڑی اور میرے دو بھائی بھی اس کی نذر ہو گئے۔ دہلی سے پاکستان روانہ ہونے والی پہلی چار ٹرینز میں سوار تمام مسلمانوں کو سکھ بلوائیوں نے قتل کر دیا۔ ہمارے قافلے کو پاکستان پہنچنے 6 روز لگے۔ ٹرین رائے ونڈ جنکشن پر آ کر رکی۔ تاہم، لاہور میں مہاجرین کا بے تحاشا رش ہونے کی وجہ سے ہمیں ملتان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن چوں کہ مہاجرین ملتان کی شدید گرمی کے بارے میں سن گن رکھتے تھے، لہذا انہوں نے وہاں جانے سے انکار کر دیا۔ رائے ونڈ میں چند ہفتے قیام کے بعد ہمیں لاہور روانگی کی اطلاع دی گئی۔ یہ سنتے ہی سب خوشی خوشی بسوں میں سوار ہو گئے لیکن ہمیں ملتان بھیج دیا گیا۔ ملتان پہنچ کر مجھے یاد آیا کہ میرے ایک خالہ زاد بھائی کی، جو سرکاری ملازم تھے، کچھ عرصہ قبل ہی بہاول پور میں پوسٹنگ ہوئی تھی۔ چناں چہ والدہ نے بہاول پور میں رہنے کا فیصلہ کر لیا اور یوں ہم ایک ریاست ست دوسری ریاست منتقل ہو گئے۔ جب ہم پاکستان پہنچے تو والدہ کے گلے میں صرف زیورات کی ایک پوٹلی اور میرے گلے میں قرآن پاک تھا۔ والدہ نے کسی رشتے دار یا عزیز سے مدد لینے کے بہ جائے خود ہی میری کفالت کی ذمے داری سنبھالی۔
بہاول پور میں نئی زندگی کے آغاز کے بارے میں بتاتے ہوئے تابش الوری نے کہا کہ قیام کا مسئلہ تو حل ہو گیا لیکن اب روزگار کی تلاش تھی۔ ایک روز الور کا رہنے والا ایک لڑکا مل گیا جو ایک دکان پر ملازمت کرتا تھا۔ میں نے اسے کام کی درخواست کی تو ایک دو روز بعد وہ مجھے ایک حکیم صاحب کے پاس لے گیا۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی پوچھا کہ اتنا چھوٹا بچہ کام کیسے کرے گا؟ میں نے جواب دینے کی بہ جائے الٹا سوال کیا کہ کام کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مریضوں کو ادویہ دینی ہیں اور آپ تو ان کے نام بھی نہیں پڑھ سکتے۔ میں نے کہا کہ میں ان کے نام لکھ سکتا ہوں۔ انہوں نے ادویہ کے نام لکھنے کے لیے کہا تو میں نے خوش خطی سے لکھ دیے اور انہوں نے بہ خوشی مجھے ملازم رکھ لیا اور یوں میری پہلی ملازمت کا آغاز ہوا۔
مطالعے سے رغبت کا ذکر کرتے ہوئے تابش الوری نے کہا کہ حکیم صاحب کے دوا خانے پر جاتے ہوئے راستے میں کتابوں کی دکان آتی تھی، جہاں ایک بزرگ کتابیں سجا کر رکھتے تھے۔ میں جب بھی وہاں سے گزرتا تو کچھ دیر ٹھہر کر کتابوں کے ٹائٹل پڑھتا اور پھر چل دیتا۔ چند روز یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر ایک روز کتابوں میں میری دل چسپی دیکھ کر بزرگ نے پوچھا کہ کیا کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟ می نے جواب دیا، جی۔ انہوں نے سوال کیا کہ پھر خریدتے کیوں نہیں ہو۔ تو میں نے جواب دیا کہ خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ انہوں نے ازراہ ہم دردی مجھے ایک کتاب پڑھنے کے لیے دے دی، جو میں نے دوا خانے میں بیٹھے بیٹھے ہی پڑھ لی اور شام کو انہیں واپس کر دی۔ یہ سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا اور میں اس بزرگ کو اپنا محسن مانتا ہوں کہ جنہوں نے ایک پیسا لیے بغیر مجھے سیکڑوں کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔
اس سوال کہ جواب میں کہ صحافت سے کب اور کیسے وابستہ ہوئے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایک روز دوا خانے میں مجھے کتاب پڑھتے دیکھ کر حکیم صاحب نے درشتی سے کہا کہ تم یہاں بیٹھ کر ہر وقت کتابیں ہی پڑھتے رہتے ہو۔ مجھے حکیم صاحب کی اس بات سے سخت صدمہ پہنچاکہ مین نے اپنے فرائض میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں کی تھی اور صرف فارغ وقت میں ہی مطالعہ کرتا تھا۔ یہ سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں نے اسی وقت دواخانہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ دواخانے پر الہام نامی رسالے کے سب ایڈیٹر عاصم بزمی بھی آیا کرتے تھے اور ہم دونوں خوب گپ شپ کرتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے اداسی کا سبب پوچھا تو میں نے سارا قصہ سنا دیا۔ وہ میری قابلیت سے آگاہ تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے الہام میں جگہ مل سکتی ہے۔ تب شپاب دہلوی الہام کے اسسٹنٹ ایڈیٹر تھے۔ عاصم بزمی نے ان سے میری ملاقات کروائی تو انہوں نے پوچھا کہ اس بچے کا کیا کرنا ہے؟ عاصم بزمی نے جواب دیا کہ بچہ بڑا ذہین و ہونہار ہے۔ آپ اس سے بات کر کے دیکھیں۔ شہاب دہلوی نے مجھ سے گفتگو شروع کی۔ پوچھا کہ پڑھتے ہو؟ میں نے نے جواب دیا کہ میں نے باقاعدہ تعلیم تو حاصل نہیں کی لیکن جو کام بھی کہیں گے، کر لوں گا۔ انہوں نے مجھے ایک رسالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا ایک پورا صفحہ لکھ کر دکھاؤ۔ میں نے وہ پورا صفحہ خوش خطی سے لکھ کر دکھایا تو وہ حیران ہوئے اور مجھے فوراً ملازمت پر رکھ لیا۔ تب میری عمر صرف 9 برس تھی۔ میں مضامین نقل کرتا، کتابت کرتا، تصیحح کرتا اور خریداروں کے پتے لکھتا۔ اس رسالے میں صرف ہم تین افراد ہی کام کرتے تھے۔ پھر اسی رسالے کے لیے مضامین، کالمز اور نظمیں لکھنے لگا اور ایک روز آیا کہ اس کا ایڈیٹر بن گیا۔ اسی عرصے میں، میں نے اپنا تعلیمی سلسلہ شروع کیا اور پنجاب یونی ورسٹی سے اردو زبان میں ماسٹرز کیا۔ میں نے تمام امتحانات پرائیویٹ دیے اور کسی اسکول، کالج یا یونی ورسٹی میں باقاعدہ تعلیم حاصؒ نہیں کی۔ پھر میں نے ‘امروز’ کے لیے کالمز لکھنا شروع کیے۔ احمد ندیم قاسمی اس کے ایڈیٹر تھے، انہیں میرا کام پسند آیا۔ میری کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ بس خط و کتابت اور فون کے ذریعے رابطہ رہتا اور وہ اکثر میرے کام کی تعریف کرتے۔ تب فیض احمد فیض پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے۔ انہیں بہاول پور میں ایک نمایندے کی ضرورت تھی اور احمد ندیم قاسمی نے انہیں میرا نام تجویز کیا۔ انہوں نے مجھے خط میں بتایا کہ میںنے تم سے پوچھے بغیر تمہارا نام تجویز کیا ہے۔ امید ہے تم مجھےمایوس نہیں کرو گے۔ ابتدا میں مشکل ضرور پیش آئی کہ میری انگریزی اچھی نہیں تھی لیکن پھر سخت محنت کی اور خصوصی خبریں بھیجنے لگا۔ ‘امروز’ اور ‘پاکستان ٹائمز’ میں بہ یک وقت کام کیا۔
بہاول پور کی علمی و ادبی فضا سے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں تابش الوری نے بتایا کہ قیام پاکستان کے وقت بہاول پور کی ادبی فضا اچھی تھی، مگر گل و گل زار کی روایتی شاعری ہوتی تھی اور چوں کہ ہم آگ اور خون کا دریا پار کر کے پاکستان پہنچے تھے لہذا مجھ میں حالات کی تلخیاں رچ بس گئی تھیں اور یہ شاعری میرے لیے اجنبی تھی۔ پھر کم عمر ہونے کی وجہ سے اہمیت بھی کم تھی۔ ایک دو شعراء سے اصلاح لینے کی کوشش کی تو انہوں نے اپنی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی، لیکن میں نے نئی راہ ڈھونڈی اور اپنے تجربات سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔ پھر ادیب واثقی، نقوی احمد پوری، اور منصور عاقل جیسے شعرا بھی اس قافلے میں شامل ہو گئے اور ایک نئے اسلوب کی شاعری اس مقبول ہوئی کہ شہاب دہلوی اور عبدالحمید ارشد جیسے پرانے شعرا نے بھی اسی طرز میں اشعار کہنا شروع کر دیے۔
عصر حاضر کی شاعری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آج کی شاعری میں زندگی کی عکاسی کی جا رہی ہے۔ نئے، پرانے دونوں شعرا ہی اچھی شاعری کر رہے ہیں۔ سید ہاشم رضا جب بہاول پور کے کمشنر بنے تو انہوں نے ادبی و تہذیبی سرگرمیوں کو خاصا فروغ دیا۔ اس دور میں، میں نے فیض احمد فیض، احمد فراز، حمایت علی شاعر، منیر نیازی، تابش دہلوی رئیس امروہوی اور احسان دانش جیسے نام ور شعرا کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کی اور خوب داد سمیٹی۔ ظہور نظر بہاول پور کے بڑے اور جدید شاعر تھے۔ شفیق الرحمٰن بھی بہاول پور سے تعلق رکھتے تھے۔ اسلم انصاری نے بہاول پور کی ادبی فضا کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ اسد اریب نے بچوں کا ادب تخلیق کیا۔
تابش الوری قطعہ نگر بھی ہیں اور رئیس امروہوی کو اپنا پسندیدہ قطعہ نگار قرار دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ رئیس امروہوی کے بعد انہوں نے اچھی قطعہ نگاری کی ہے۔ غزل پسندیدہ صنف ہے، جب کہ نعت نے گرفت میں لیا۔ بہاول پور میں تابش الوری کی قائم کردہ مختلف انجمنیں مصروف عمل ہیں اور مجلس ثقافت پاکستان ہر ماہ کی 16 تاریخ کو ادبی پڑاؤ کے نام سے شعری نشست کا اہتمام کرتی ہے۔
شیئر کریں
