فرمان نبوی ﷺ
٭ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ (ترمذی)
٭ علم حاصل کرواور لوگوں تک پہنچاؤ۔ (ترمذی)
٭ وہ علم جس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا وہ ایسے خزانے کی طرح ہے جس میں سے کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ نہیں ہوتا۔ (ترمذی)
٭ ایک باپ اپنے بچے کو اچھی تعلیم سے بہتر کچھ نہیں دے سکتا۔ (ترمذی)
٭جو حصول علم کے لیے نکلے، اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔ (ترمذی)
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے فرمایا
٭ ہمیشہ اخلاق سے بات کرو کیونکہ انسان پر سب سے زیادہ مصیبتیں اس کی اپنی زبان کی وجہ سے آتی ہیں۔
٭ غریبوں کے ساتھ بیٹھا کرو تاکہ شکر گزار بنو۔
٭ اپنی سوچ کو پانی کے قطروں سے بھی زیادہ شفاف رکھو کیونکہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے،اسی طرح سوچوں سے ایمان بنتا ہے۔
٭ تین انسان تین چیزوں سے محروم رہیں گے۔غصے والا صحیح فیصلے سے،جھوٹا عزت سے اور جلد باز کامیابی سے۔
٭ ساری دنیا کے لوگ تجھے اپنے فائدے کے لیے چاہتے ہیں صرف تیرا رب ہی ہے جو تجھے تیرے فائدے کے لیے چاہتا ہے۔
٭ زندگی کا ہر دن آخری سمجھو۔
٭ علم ایسا خزانہ ہے جو خرچ کرنے سے ختم نہیں ہوتا بلکہ زیادہ ہوتا ہے۔
٭ توبہ کرنے میں تاخیر مت کرو کیونکہ موت اچانک آئے گی۔
٭ علم کو بیان کرنے والے تو بہت ہیں لیکن اس پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں۔
٭ گناہ پر ندامت گناہ کو مٹا دیتی ہے اورنیکی پر غرور نیکی کو تباہ کر دیتا ہے۔
سنہری باتیں
٭ محنت اتنی خاموشی سےکرو کہ تمہاری کامیابی کا شور مچا دے۔
٭ صلح کرنا سیکھو کیونکہ چمکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے، اکڑنا تو مردے کی پہچان ہوتی ہے۔
٭ تم ایک پنسل بن کر کسی کی خوشیاں نہیں لکھ سکتے تو کوشش کر کے اچھے ربڑ بن جاؤ تاکہ کسی کا غم مٹا سکو۔
لفظ لفظ خوشبو
٭ اگر کوئی تمہیں پتھر مارے تو تم بھی اس کو مارو، لیکن پتھر نہیں، بلکہ اچھے اخلاق کے پھول مارو۔
٭ کچھ باتوں کا جواب صرف خاموشی ہوتی ہے اور خاموشی بہت خوب صورت جواب ہے۔
٭ اگر ہم سے غلطی ہوجائے تو ابلیس کی طرح دیر نہیں کرنی چاہیے، بلکہ فورا ًمعافی مانگ لینی چاہیئے کیونکہ ہم ابن آدم ہیں، ابلیس نہیں۔
اقوال زریں
٭ اپنی سوچ کو پانی کے قطروں سے بھی زیادہ شفاف رکھو کیونکہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچوں سے ایمان بنتا ہے۔
٭ جو حرام کو ترک کرے گا، دوزخ اس پر ترک ہو گی۔
٭ علم وہ نہیں جو آپ نے سیکھا ہے، علم تو وہ ہے جو آپ کے عمل و کردار سے ظاہر ہو۔
واہ کیا بات ہے
٭ ماں کے بغیر گھر قبرستان ہے۔
٭ خامیوں کا احساس کامیابی کی کنجی ہے۔
٭کمزور موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں جبکہ باہمت انسان خود مواقع پیدا کرتے ہیں۔
٭تکبر علم کو کھا جاتا ہے۔
٭انسان کی آزمائش جتنی بڑی اور مشکل ہو گی، انعام بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔
٭اچھا سوال آدھا علم ہے۔
٭زندگی اس طرح بسر کرو کہ دیکھنے والے تمہارے درد پر افسوس کرنے کی بجائے تمہارے صبر پر رشک کریں۔
باتوں سے خوشبو آئے
٭ انسان کی سب سے بڑی دولت اس کا اچھا اخلاق ہے۔
٭ ایک شخص بن کر نہ جیو بلکہ ایک شخصیت بن کر جیو، کیونکہ شخص تو مر جاتاہے لیکن شخصیت زندہ رہتی ہے۔
٭دوسروں کے ساتھ اپنا مقابلہ نہ کیجیے، سورج ہو یا چاند دونوں اپنے اپنے وقت پر چمکتے ہیں۔
٭ تین چیزیں سوچ سمجھ کر اٹھانی چاہیے قلم ، قدم اور قسم
٭جھوٹ کے درختوں پر اعتبار کی چڑیاں لوٹ کے نہیں آتی۔
٭ زندگی کو سادہ رکھو، مگر خیالات کو بلند رکھو۔
٭سمجھ دار انسان وہ ہرگز نہیں جو بڑی بڑی باتیں کرنے لگے، بلکہ وہ ہے جو چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھنے لگے۔
مہکتے الفاظ
٭ بہترین آنکھ وہ ہے جو حقیقت کا سامنا کرے۔
٭ دنیا میں سب سے مشکل کام اپنی اصلاح کرنا اور سب سے آسان کام دوسروں پر تنقید کرنا ہوتا ہے۔
٭ نفرت دل کا پاگل پن ہے۔
٭ انسان زندگی سے مایوس ہو تو کامیابی بھی ناکامی نظر آتی ہے۔
