مسئلہ آپ کا، حل ہمارا

سوال: میری یہ عادت نہیں جاتی کہ میں ناخن دانتوں سے کاٹتا ہوں۔
شاہد علی، جماعت دہم، گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف ضلع بہاول پور
جواب: شاہد صاحب! خیر سے اب آپ بڑے ہو گئے ہیں۔ ناخن چبانا احساس محرومی کی علامت ہوتا ہے۔ کوئی بھی بری عادت اس وقت چھوٹتی ہے جب آپ اسے چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیں۔ خود کو ہمت دلائیں کہ ایک انسان ہو کر اتنی معمولی اور بری بات کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہی احساس کرنے اور خود کو خود ہی روکنے سے ہر غلط کام کرنے سے بچ جائیں گے۔ یہ کلیہ عمر بھر کام آتا ہے۔ جو غلطی کرتا ہے سدھارتا بھی خود ہے، کوئی دوسرا سدھارنے نہیں آتا۔
٭٭٭٭٭
سوال: مجے یہ دنیا خود غرض لگتی ہے۔ گھٹن ہونے لگی ہے۔
شبیر احمد، جماعت فرسٹ ایئر، گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ نواب صاحب، ضلع بہاول پور
جواب: واہ جی حضرت، دنیا خود غرض تو لگے گی جب آپ اس کو خوب صورت بنانے میں اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے۔ دوسروں سے توقع رکھنے کی بجائے خود ایک امید بنیں۔ سب سے پہلے اپنے آپ کے لیے ایک اچھے دوست بنیں، پھر دوسروں کے لیے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا باعث بنیں۔ اللہ جی نے ہر انسان کو دوسرے کی خوشی اور تکمیل کے لیے ہی بنایا ہے۔ صرف اپنے لیے سوچنے والے اور دوسروں سے اچھائی کی توقع رکھنے والے تو خالق کی دنیا کے منصوبے کے بھی خلاف چلتے ہیں اور اسے یہ کب پسند ہو گا۔
شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •