نیا سال آیا
نیا سال آیا نئے گیت گاؤ کدورت، تعصب سبھی بھول جاؤ محبت کو اپنے دلوں میں بساؤ تمہارے لیے ہی یہ خوشیاں ہےلایا مبارک ہو
نیا سال آیا نئے گیت گاؤ کدورت، تعصب سبھی بھول جاؤ محبت کو اپنے دلوں میں بساؤ تمہارے لیے ہی یہ خوشیاں ہےلایا مبارک ہو
پیارے پیارے بچے ہیں ہم بچے من کے سچے ہیں ہم بڑوں کی عزت کرتے ہیں بچوں سے پیار کرتے ہیں کام کے وقت ہم
سب کوخوب ستایا میں نے دن بھر شور مچایا میں نے جھڑکی چانٹا کھایا میں نے پلٹی گھر کی کایا میں نے ابا نے دھمکایا
چھک چھک کر کے چلتی جائے دل کی دھڑکن بڑھتی جائے اتنی لمبی ریل گاڑی کس نے پٹڑی پہ اتاری خالو، خالہ، ماموں، مامی اتنی
بلبل کا بچہ کھاتا تھا کھچڑی پیتا تھا پانی گاتا تھا گانے میرے سرہانے ایک دن اکیلا بیٹھا ہوا تھا میں نے اڑایا واپس نہ آیا
میں ننھا سا پودا ہوں ہر پل مرادھیان کرو تم مت مرا نقصان کرو بن جاؤں گا جب میں پیڑ دوں گا آکسیجن کا ڈھیر
نئی نئی دنیالگتی تھی نئے نئے سے لوگ کھلتی کلیاں صبح سویرے کیسے مدھم مدھم حیرت ہوتی ،پھول پہ کیسے جم جاتی ہے شبنم چڑیوں
بکری میری بھولی بھالی بکری میری بھولی بھالی کچھ تھی بھوری کچھ تھی کالی میں میں کر کے شور مچائے پانی پیے چارا کھائے صبح
جاگو جاگو گڑیا رانی اٹھو اٹھو گڑیا رانی دیکھو دیکھو ہوا سویرا دن آیا اور گیا اندھیرا اندر باہر ہوا اجالا کتنا اچھا کتنا پیارا
شوکت حیات خان ڈاہا (وہاڑی) اکیسویں صدی انتہائی سبک رفتاری سے اپنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ نت نئی ایجادات نے نہ صرف ہماری زندگی
ظفر حسین (ملتان) لگی نفرت کی بجھائے کون راہ الفت کی دکھائے کون ایک ہی درد کے سب ہیں روگی پھر درد یہاں کسی کےبٹائے
تسنیم مظہر (مظفرگڑھ) زمانے کے بے رحم تھپیڑے اور زندگی کی خاردار جھاڑیوں کی چبھن پہلی بار اس دن محسوس ہوتی ہے جب سر سے
ملک محمد رفیع کالرو(لیہ) ایک وقت تھا جب خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔ دوستوں سے مل کر، رشتے داروں سے مل کر، نیکی
قراۃ العین صدیقی(لودھراں) اکتیس دسمبر کی رات کیا آتی ہے، جوش و ولولے سے لبریز کتنے ہی دل سالِ نو کی مبارک باد دینا شروع
محمد مسعود ندیم (ڈیرہ غازی خان) وقت کا پہیہ روزِ ازل سے گھوم رہا ہے۔ گردشِ ایام میں لمحے مستقبل سے حال اور حال سے ماضی میں بدل
حافظ محمد محفوظ الحق (بہاول پور) استاد کائنات کے اندر اس ہستی کا نام ہے جو معاشرے میں موجود لوگوں کے اخلا ق و کردار
احمد عمران عباسی (رحیم یار خان) سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی ہدایات پر گورنمنٹ سیکنڈری سکول ججہ عباسیاں میں مورخہ6دسمبرسے 10 دسمبر 2021تک ہفتہ
عمارہ رباب (خانیوال) احسان کے عمومی معنی کسی کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرنے کے ہیں لیکن آج ہم اس کے بنیادی معنی جانیں گے۔
علیزہ لیاقت (وہاڑی) پیارے بچو! کسی گاؤں میں ایک مفلس لڑکی رہتی تھی جس کا نام کلثوم تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتی تھی۔
حق نواز (رحیم یار خان) پرانے وقتوں کی بات ہے کہ کسی گاؤں ميں ايک غريب لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ روزانہ جنگل سے لکڑياں کاٹ
حفصہ حکیم (مظفرگڑھ) ایک بادشاہ کے پاس اپنے اپنے فن کے پانچ ماہر آئے۔ایک کو منطق پر عبور حاصل تھا۔دوسرا زبان داں تھا۔تیسرا موسیقی کا
زہرا ظفر (ملتان) ایک دن میں بازار سے خریداری کرنے کے بعد گھر جانے کے لیے نزدیکی گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک مجھے
عروہ بتول محفوظ (بہاول پور) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ بہت رحم دل تھا وہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا۔
محمد نورالحسن (بہاول نگر) کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔ اسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔ اس کا
مصباح بی بی (لودھراں) علی نے سفید رنگ کی ایک بلّی پالی تھی۔ جس کا نام اس نے مانو رکھا۔ آج اتوار تھا۔ علی سارا
عریشہ صدیق(خانیوال) کسی گاؤں میں ایک سیانا شخص رہتا تھا۔ اس کے پڑوس میں ایک میاں بیوی رہتے تھے۔ ایک دن میاں نے بیوی سے
ایمن رمضان (لیہ) ایک دفعہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اسلامی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک قافلے کے ساتھ بغداد جا رہے
اللہ تو ہے رحمت والا نام ہے تیرا برکت والا دیتی ہے ہر چیز گواہی پاک ہے تیری ذات الہی تو ہی مالک تو ہی
یا نبیﷺ کیا یونہی دن گزر جائیں گے آپﷺ لے لو خبر، ورنہ مر جائیں گے آپﷺ نے گر نہ تھاما ہمیں یا نبیﷺ بے
مصباح الحق (لودھراں) میں ایک تختی ہوں۔ میری بناوٹ بہت ہی خوب صورت ہے۔ مجھے بنانے کے لیے مضبوط لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
محمد کامران (احمد پور شرقیہ) اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو بہت سی نعمتوں یعنی ہوا، پانی، روشنی، دھوپ اور طرح طرح کی کھانے پینے کی اشیاء سے
محمد شفیق(میلسی) سکول میں چھٹی کی گھنٹی بجی تو سب بچے اپنی اپنی کلاسز سے باہر آئے اور اپنی اپنی سائیکل اور موٹر سائیکل کو سنبھال کر اپنے گھروں
محمد ابوبکر (ڈیرہ غازی خان) تاریخی ورثہ کسی بھی ملک کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت اور آثار قدیمہ ہر پہلو سے بھرپوراور شان
عائشہ رحمان (ملتان) میرا نام عائشہ رحمان ہے۔ میں سال اول کی طالبہ ہوں۔ روشنی میگزین کے توسط سے اپنے خواب اور اپنی زندگی کی خوب صورت
شاہد نواز(کبیروالا) ایک دن سکول جاتے ہوئے مجھے راستے میں کچھ پتھر پڑے نظر آئے جو کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتے تھے۔ میں اس خیال سے
محمد تاشف اعجاز (چشتیاں) میں 100روپے کی قیمت کا حامل کاغذ کا ایک رجسٹر ہوں۔ میرا رنگ سفید ہے۔ سرخ اور نیلے رنگ کے حاشیے
اقصیٰ شفیق (لیہ) آج آپ مجھے گردوغبار میں پڑا ہوا دیکھ رہے ہیں مگر میں ہمیشہ سےہی ایسے نہ تھا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد میں
اقراء نبی (صادق آباد) ایک دن میں اپنی موٹر سائیکل پر سکول جا رہی تھی۔ میں ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہوئے نہایت ا حتیاط